اہم ملکی واقعات اور راز کا پردہ

پاکستان میں ہونے والےاہم واقعات پر راز کا پردہ ڈال دیاجاتا ہے۔کچھ رازملک کے داخلی اور کچھ خارجہ معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ان معاملات کی بات دبا دی جاتی ہےاور سمجھا جاتا ہے کہ جو ہوا وہ بھی فراموش کر دیا جائے گا۔جو بتایا جاتا ہے اس کوہی سچ ماننے پر اصرار کیا جاتا ہے۔لیکن راز کے ساتھ مسئلہ ہی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کےلیے راز نہیں رہتا اورکبھی نہ کبھی سامنے آ ہی جاتا ہے۔سچ چھپ نہیں سکتااورچھپایا نہیں جاسکتا۔

کبھی کوئی کتاب لکھ کرراز افشا کردیتا ہےتوکبھی کوئی بیان دے کربات کھول دیتا ہے۔کبھی کسی صحافتی تحقیق میں راز پر پڑا پردہ اٹھ جاتا ہے۔امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی طرح دنیا میں یہ چلن بھی پایا جاتا ہےکہ ایک مخصوص مدت گزرنے کے بعداہم رازوں سے خود ہی پردہ اٹھا دیا جائے۔ایساہی حالیہ انکشاف امریکا کے سابق صدربراک اوباما نے اپنی آپ بیتی میں کیا ہے۔انہوں نے لکھا ہےکہ جب ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کر کے اسامہ بن لادن کو قتل کیاگیاتو اوباماسمجھ رہے تھےکہ اس واقعے کی اطلاع اس وقت کے پاکستانی صدر آصف زرداری کو دینا بہت مشکل ہوگا۔ اوباما کا خیال تھا کہ اس آپریشن کے بعدپاکستان میں سخت ردعمل آئے گا کیوں کہ پاکستانی سرزمین میں پاکستان کی مرضی کے بغیرامریکی فوجیں داخل کی گئیں اور آپریشن کیا گیا تھا۔تاہم براک اوباما کے خدشات بالکل غلط ثابت ہوئےاور توقع کے برعکس آصف زرداری نے اسےخوشی کی خبر قرار دیا۔حالاں کے اس حملے کے بعدبظاہرپاکستان نے بہت شدید ردعمل دیاتھا۔

ایبٹ آباد آپریشن کے بعدحقائق کی کھوج لگانے کےلیے ایک کمیشن بنایا گیا تھا۔اس کمیشن کی رپورٹ بھی اسی طرح دبا لی گئی تھی اوربعد میں وہ رپورٹ الجزیرہ نے لیک کی تھی۔

جب پاکستانیوں کو قتل کرنے والے امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کو رہا کیا گیاتواس رہائی کے پیچھے کی کہانی بھی اس نے خود اپنی کتاب میں بیان کی تھی۔ریمنڈ ڈیوس نے لکھا تھا کہ اس کی رہائی میں اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا نے اپنا کردار ادا کیا تھا۔ریمنڈ ڈیوس کے مطابق تمام عدالتی کارروائی میں جنرل پاشا عدالت میں موجود تھےاور امریکی سفیر کیمرون منٹر کو  آگاہ کرتےرہےتھے۔

جب امریکاپاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے کرتا تھاتواس وقت پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل دیاجاتا تھا۔ان حملوں کوپاکستان کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا جاتا تھا۔ سابق صدرجنرل پرویز مشرف نے سی این این کو ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھاکہ یہ ڈرون حملے توباقاعدہ ایک خفیہ ڈیل کے تحت پاکستان کی رضامندی سے ہوتے تھے۔ حملے کرنے والے ڈرون  بلوچستان کے شمسی ائیر بیس سے اڑان بھرتے تھے اور پھر پاکستان نے وہ ائیربیس امریکا سے خالی کرائی تھی۔ یہ راز بھی بہت بعد میں وکی لیکس کے ذریعے ہی افشا ہوا  کہ امریکا کی مذمت کرنے والے مولانا فضل الرحمان بھی وزیراعظم بننے کےلیے امریکی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے تھے۔

 یہ انکشاف بھی اس وقت کے صدرجنرل پرویز مشرف نے خود اپنی کتاب میں کیاتھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے گرفتار افراد کو امریکا کے حوالے کیا۔

 پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کا احوال بھی ایک بھارتی صحافی کی کتاب میں سامنے آیا۔ برکھا دت نے اپنی کتاب میں لکھا تھاکہ نیپال کے دارلحکومت کھٹمنڈو میں نوازشریف اور نریندر مودی نےکیمروں سے چھپ کر ملاقات کی۔

ادھر جب سال 2014 میں اس وقت کی مسلم لیگ نون کی حکومت کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ تمام سازش لندن میں بیٹھ کر بنائی گئی ہے۔ عمران خان،پرویزالہٰی،چودھری شجاعت اور طاہرالقادری میں ایک معاہدہ طے پایاتھا اور اس معاہدے کو لندن پلان کا نام دیا گیا تھا۔ ابتدا میں اس سازش سے انکار کیاگیالیکن بعد میں لندن پلان کی حقیقت تسلیم کر لی گئی۔

 یہ بات بھی سامنے آئی کہ عمران خان کے دھرنے کی آڑ میں مقتدر حلقے نوازشریف کی حکومت ہٹا کرٹینکوکریٹس کی حکومت بنانے کا سوچ رہے تھے۔

یہ انکشاف بھی بعد میں ہی سامنے آیا کہ اس وقت کےآئی ایس آئی چیف جنرل احمد شجاع پاشانےق لیگ کے بندے توڑ کر تحریک انصاف میں شامل کرا ئے تھے۔

 وقت گزرنے کے بعدیہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ  کہ سال 2002 کے انتخابات میں عمران خان اورپرویز مشرف کی ڈیل ہورہی تھی اور انہوں نے سو کے قریب سیٹیں مانگیں۔جب پرویز مشرف نے انکار کیاتو عمران خان الگ ہو گئے۔

جون 2004 میں اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دےدیاتھا۔ اس سال وفاقی وزیر شیخ رشید نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ ظفراللہ جمالی نے بطور وزیراعظم اپنے دورہ امریکا میں امریکی وزیردفاع سے تنہائی میں ملاقات کی تھی جس کی بنیاد پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا۔ جب کہ ظفراللہ جمالی یہ انکشاف کرتے ہیں کہ امریکی وزیرخارجہ کولن پاول نے کہا تھا کہ پرویزمشرف نے عراق میں پاکستانی فوج بھیجنے کاوعدہ کرلیاتھا۔

 ملکی تاریخ میں سیاسی،سماجی اور عسکری رازوں کی ایک طویل فہرست ہے۔سوال یہی ہے کہ جو سچ ہوتا ہےوہ بروقت کیوں نہیں بتایا جاتا اورجب سچ نے سامنے آ ہی جانا ہےتو اسے چھپایا کیوں جاتا ہے۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *