پی ڈی ایم ٹوٹ چکی،صرف فساد باقی رہ گیا،بابر اعوان

مریم نواز نےملک کوایتھوپیا سمجھ رکھا

وزیراعظم عمران خان کے مشیر بابر اعوان نے کہا ہے کہ مریم نواز کے فوج سے متعلق بیان پر قانون کےمطابق نون لیگ پر پابندی لگ سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم ٹوٹ چکی ہے،اب صرف فساد باقی رہ گیا،نواز شریف نے سال میں ایک مرتبہ بھی ڈسپرین نہیں کھائی اوران کا علاج کافی شاپس اور پارکوں میں جاری ہے۔

سماءکے نمائندہ خصوصی عباس شبیر کو انٹرویو دیتے ہوئے مشیرپارلیمانی امور بابراعوان نے کہا کہ اپوزیشن نے نکتے ڈھونڈنے کیلئے ٹیم بٹھائی ہے،یہ کہتے ہیں کہ فوج انتخابات میں مداخلت کرتی ہے،گلگت بلتستان میں فوج یا رینجرز نہیں تھے بلکہ سندھ کے اہلکار تھے۔

بابراعوان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اپوزیشن کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا،گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ نے بھی کہا ہے کہ سندھ حکومت نے کروڑوں روپے لگائے ۔

بابراعوان کا کہنا تھا کہ کیا قانون کومطلوب مفروروں کیلئےلوگ باہر نکلیں گے،بلی تھیلے کے اندر رکھی ہوئی تھی کہ پتہ کھیلے گی۔انھوں نے کہا کہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے تو حد ہی کرلی اورقاضی فیملی کے اکاؤنٹس بھی استعمال کرلیے۔

مریم نوازسےمتعلق بابراعوان کا کہنا تھا کہ ان کا فوج سے متعلق بیان قانون کےمطابق نون لیگ پر پابندی لگواسکتا ہے،مریم نواز نےملک کوایتھوپیا سمجھ رکھا اور کہا ہے کہ فوج حکومت کو گھر بھیجے تو پھربات ہوگی،یہ ملک کے آئینی ادارے ہیں اور آئینی طریقہ کار ہے۔

اپوزیشن سے متعلق بابر اعوان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عملی طور پر پی ڈی ایم کے نام کی کوئی تحریک نہیں ہے،یہ چند مفروروں کو بچانے کیلئے چند وظیفہ خور میدان میں ہیں اور یہ لوگ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے بیانیہ کوآگے بڑھارہے ہیں جوعوام نےمسترد کیا ہے۔

انتخابی عمل سے متعلق بابر اعوان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں خریدو فروخت کے الزامات لگتے ہیں،الیکشن میں گنتی سمیت پوائنٹس میں بھی گڑبڑ ہوتی ہے،سینیٹ میں ہارے ہوئے لوگ بھی جیت جاتے ہیں،جو شو آف ہینڈز کے قانون سے مکریں گےسمجھے وہ گڑ بڑ چاہتے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف سے متعلق بابراعوان نے کہا کہ 100 فیصد نواز شریف واپس آئیں گے،گردے میں تکلیف کا بہانہ بناکر میڈیکل ہسٹری بنائی جارہی ہے،نواز شریف نے سال میں ایک مرتبہ بھی ڈسپرین نہیں کھائی اوروہ اپنا علاج لندن کے کافی شاپس،مہنگےشاپنگ مالز اور پارکوں میں کروارہے ہیں۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *