2020 to end with two eclipses

فوٹو: اےایف پی

رواں سال کا آخری چاند اور سورج گرہن 30نومبر اور 14دسمبر کو دیکھا جاسکے گا۔

رپورٹس کے مطابق سورج گرہن کے11دسمبر 2020 سے پڑے گا جبکہ30 نومبر کو چاند گرہن بھی متوقع ہے۔ سال 2020 کا آخری چاند گرہن29 اور30 ​​نومبر کو شمالی اور جنوبی امریکا، آسٹریلیا اور ایشیاء کے کچھ حصوں میں نظر آئے گا۔

چاند گرہن زیادہ سے زیادہ 82 فیصد دیکھاجاسکے گا جس کی مدت 4گھنٹے 21منٹ دیکھا جاسکے گا۔

سال کا آخری سورج گرہن 14دسمبر کو چلی اور ارجنٹائن کے کچھ علاقوں میں سہ پہر میں دیکھا جاسکے گا جبکہ جنوبی امریکا، جنوب مغربی افریقہ اور انٹارکٹیکا کے کچھ علاقوں میں موسم کی صورتحال کے حساب سے جزوی سورج گرہن نظر آئے گا۔

سورج گرہن کے دوران چاند زمین اور سورج کے درمیان جاتا ہے۔ چاند کچھ منٹ کے لئے سورج کی کرنوں کو جزوی طور پر یا پوری طرح چھپا دیتا ہے۔

پاکستان میں آخری بار21 جون 2020 کو سورج گرہن دیکھاجاسکا تھا جبکہ آخری چاند گرہن 5 جون 2020 کو دیکھا گیا تھا۔

چاند گرہن کیا ہوتا ہے؟

زمین پر سورج گرہن اُس وقت ہوتا ہے جب چاند گردش کے دوران سورج اور زمین کے درمیان میں آجاتا ہے، جس کے بعد زمین سے سورج کا کچھ یا پھر پورا حصہ نظر نہیں آتا۔

چاند کا زمین سے جتنی مسافت کا راستہ ہے اُس سے 400 گنا زیادہ راستہ سورج اور چاند کے درمیان ہے اس لیے زمین سے سورج گرہن واضح طور پر نہیں دیکھا جاتا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ سورج گرہن کو پوری دنیا میں دیکھا جاسکے۔

سائنسدان سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کرکے گرہن زدہ خطے میں جاتے ہیں کیونکہ مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آسکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ 7 منٹ چالیس 40 تک برقرار رہتا ہے، البتہ جزوی سورج گرہن کو سال میں کئی بار دیکھا جا سکتا ہے۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *