German doctor arrested on suspicion of killing coronavirus patients

جرمنی میں ایک ڈاکٹر کو کرونا وائرس سے متاثرہ 2 مریضوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ ڈاکٹر نے ایک مریض کو موت کی دوا دینے کا اعتراف کرلیا۔

ڈی ڈبلیو کے مطابق جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر ایسن میں ڈاکٹر کے ہاتھوں مرنے والے کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کی عمریں 47 اور 50 برس تھیں، دونوں مریض دائمی امراض میں مبتلا تھے۔

پولیس کے مطابق اسپتال کے ایک سینیئر ڈاکٹر نے دونوں مریضوں کو مبینہ طور پر ایسی دوا دی جس کے نتیجے میں دونوں مریض ہلاک ہوئے۔ گرفتار ڈاکٹر نے دوران تفتیش بتایا کہ اس نے ایک مریض کو ’مزید تکلیف سے بچانے‘کیلئے اس کی جلد موت کیلئے دوا دی تھی۔

ایسن یونیورسٹی اسپتال کے 44 سالہ سینیئر ڈاکٹر کو بدھ کے روز گرفتار کیا گیا، جمعرات کو قتل کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کا ریمانڈ بھی حاصل کرلیا گیا تھا۔

ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ رواں ماہ 13 اور 17 تاریخ کو 2 مریضوں کے اچانک انتقال پر انہیں شبہہ ہوا، جس کے بعد مقامی دفتر استغاثہ کو مطلع کیا گیا اور ان مریضوں کا علاج کرنیوالے سینیئر ڈاکٹر کو کام کرنے سے فوری طور پر روک دیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ڈاکٹر نے ایک مریض کی ہلاکت میں اپنے کردار کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ مریض اور اس کے اہلخانہ کو ‘مزید اذیت میں مبتلا ہونے سے بچانے‘ کیلئے کیا تھا۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *