PEMRA ban on airing speeches of absconders challenged in court

اشتہاری ملزمان سے متعلق درخواست پر اسلام آباد ہائيکورٹ نے ريمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو مفرور ہے اسے ٹی وی پر آنے کی اجازت نہيں دی جاسکتی، پرویز مشرف کیس میں واضح کرچکے کہ مفرور کیلئے کوئی ریلیف نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں مفرور ملزمان سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی جس میں ججز نے ریمارکس دیئے کہ مفرور ملزمان نے قانونی حقوق سے فائدہ اٹھانا ہے تو پہلے عدالت کے سامنے سرنڈر کریں، مفرور ہونا سنجیدہ بات ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اشتہاری ملزمان کی تقاریر پر پیمرا کی جانب سے عائد پابندی کیخلاف درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے پوچھا کہ آپ ریلیف مانگ کس کیلئے رہے ہیں، کس کا انٹرویو نشر کروانا چاہتے ہیں؟، مفرور ملزم خود عدالت سے رجوع نہیں کررہے۔

وکیل نے کہا کہ انفارمیشن تک رسائی کا حق متاثر ہورہا ہے، آرٹیکل 19 اے آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے پھر تو ہر مفرور چاہے گا اسے آن ایئر کیا جائے، حکومت نے مفرور کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی مگر الزام عدلیہ پر لگا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کیس میں کہہ چکے کسی مفرور کیلئے کوئی ریلیف نہیں، مفرور کی تو شہریت منسوخ ہوسکتی ہے، پیمرا کا آرڈر منسوخ کیا تو تمام مفرور ملزمان کو ٹی وی پر آنے کا حق مل جائے گا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *