Suspension bridge burned down in Chillas amid political tension

گلگت بلتستان کے علاقہ چلاس میں نامعلوم افراد نے آمد و رفت کے لیے واحد پل کو نذر آتش کردیا۔ نگراں وزیراعلیٰ نے نوٹس لیکر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ مریم نواز شریف نے واقعہ کو افسوسناک قرار دیا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق ضلع دیامیر میں چلاس کے قریب واقع گاؤں کھنر کو قراقرم ہائی وے سے ملانے کا واحد راستہ رسیوں والا ایک چھوٹا پل ہے جس کے ذریعے روزانہ ہزاروں افراد آر پار سفر کرتے ہیں۔

گزشتہ رات اس پل کو نامعلوم افراد نے جلاکر راکھ کردیا۔ پولیس تاحال ملوث افراد کا سراغ لگانے میں ناکام ہے جبکہ نگراں وزیراعلیٰ میرا فضل خان نے واقعہ کا نوٹس لیکر آئی جی پولیس کو حکم دیا ہے کہ ملوث ملزمان کو جلد از جلد قانون کے شکنجے میں لایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان الیکشن: کون سے حلقے میں کیا تنازع ہے

ضلع دیامیر کا یہ گاؤں کھنر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے حلقہ 16 میں آتا ہے جہاں سے مسلم لیگ نواز کے امیدوار انجنیئر محمد انور کامیاب ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی اعداد و شمار کے مطابق کھنر گاؤں نے بھاری اکثریت سے محمد انور کو ووٹ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:دھاندلی کے الزامات پر احتجاج جاری، گلگت میں فوج طلب

انتخابات کے بعد دیگر حلقوں کی طرح یہاں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ گزشتہ روز گلگت بلتستان حکومت نے سیاسی کشیدگی اور نقص امن کے خدشے کے پیش نظر وفاقی وزرات داخلہ کو خط لکھتے ہوئے فوج طلب کی ہے۔ خط کے مطابق گلگت شہر اور چلاس میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے 400 فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں۔

ٹوئٹر پر ایک صارف نے اس پل کی جانب توجہ دلائی تو مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ ’نہایت شرم اور افسوس کی بات ہے کیونکہ مقامی لوگوں کی روزمرہ زندگی اور روزگار انہی پُلوں سے جڑے ہیں۔‘

گلگت بلتستان سے سماء کے نمائندہ منظر شگری کے مطابق اس علاقے میں آج کل سیاسی کشیدگی عروج پر ہے اور یہ واقعہ بھی حالیہ انتخابات کا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔ پولیس بھی ابھی تک سیاسی پہلو پر تفتیش کر رہی ہے۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *